ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جئے پور لشکر طیبہ معاملہ: نچلی عدالت سے عمر قید کی سزاپائے ملزمین کی اپیل سماعت کے لیئے منظور

جئے پور لشکر طیبہ معاملہ: نچلی عدالت سے عمر قید کی سزاپائے ملزمین کی اپیل سماعت کے لیئے منظور

Tue, 08 May 2018 16:50:33    S.O. News Service

جئے پور ہائی کورٹ نے ریکارڈ طلب کیا، ملزمین کی ضمانت پر رہائی کے لیئے کوشش کی جائے گی، گلزار اعظمی
ممبئی،8؍ مئی(ایس او نیوز؍پریس ریلیز) دہشت گردی کے الزامات کے تحت عمر قید کی سزا پانے والے چھ مسلم نوجوانوں کی نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف داخل اپیل کو جئے پور ہائی کورٹ نے سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے نچلی عدالت سے مقدمہ سے متعلق تمام دستاویزات کو طلب کرلیا ہے ، یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزمین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔

گلزار اعظمی نے بتایا کہ ملزمین ۱۔ اصغر علی محمد شفیع۲۔ بابو علی حسن علی۳۔ حافظ عبدالمجید کلو خان۴۔ قابل خان امام خان ۵۔ شکر اللہ صوبے خان ۶۔ محمد اقبال بشیر احمدو دیگر ملزمین کو ایڈیشنل سیشن عدالت جئے پور نے ممنو ع دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کے ممبران کو مدد پہچانے اور ہندوستان میں دہشت گردانہ کاررائیوں کی سازش رچنے کے الزامات کے تحت عمر قید کی سزاسنائی تھی ۔

گلزار اعظمی نے مزید بتایا کہ نچلی عدالت کے فیصلہ کے خلاف داخل اپیل پر سماعت کرتے ہو ئے جئے پور ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس گوردھن بردھار اور جسٹس محمد رفیق نے وکلاء نشانت ویاس، ارون کمار جین ، مجاہد احمد اور عارف علی کے دلائل کی سماعت کے بعد اسے قبول کرلیا اور حکم دیا کہ نچلی عدالت کے اس مقدمہ سے متعلق تمام ریکارڈ کو ہائی کورٹ بھیجا جائے ۔

گلزار اعظمی نے بتایا کہ جمعیۃ علماء سے قانونی امداد طلب کرنے کے لیئے ملزمین نے راجستھان جمعیۃ علماء کے صدر مفتی حبیب اور جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے خازن مفتی یوسف کے توسط سے رابطہ قائم کیا تھا جس کے بعد مقدمہ کے دستاوزیزات کا مطالعہ اور ملزمین کے متعلق جانکاری حاصل کرنے کے بعد جمعیۃ علماء نے نچلی عدالت کے فیصلہ کوہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔

گلزار اعظمی نے کہا کہ اب جبکہ اپیل سماعت کے لیئے قبول ہوچکی ہے ملزمین کی ضمانت پررہائی کے لیئے کوشش کی جائے گی اور اس تعلق سے وکلاء سے صلاح و مشورہ کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ راجستھان اے ٹی ایس نے ملزمین کو یو ے پی اے کی دفعات 10,13,17,18,18A,18B, 20, 21 اور تعزیرات ہند کی دفعہ 511 کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا تھا کہ ملزمین بذریعہ فون پاکستان میں موجود لشکر طیبہ کے کمانڈر کے مسلسل رابطہ میں تھے اور ہندوستان کی مختلف جیلوں میں مقید لشکر طیبہ کے اہلکاروں کو مدد پہنچانے کا کام انجام دیتے تھے ۔


Share: